Posts

ٹی بی ۔۔۔ علاج ممکن ہے

Image
تحریر:  ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر چوبیس مارچ دینا بھر میں ٹی بی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے   اور اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں آگاہی اور ترقی پذیر ممالک میں اس جان لیوا بیماری سے پیدا ہونے والی مختلف پیچید گیوں اور دنیا بھر میں اس بیماری سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کو شش ہے۔ چوبیس   مارچ   1882 کوجرمنی کے سائنسدان رابرٹ کاکس   نے   ٹی بی کے   مہلک   جرثومے کی تشخیص کی۔ ٹی بی جسے    تپ دق بھی کہتے ہیں ایک قدیم ترین مرض ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے بنی نوع انسان کے لئے صحت عا مہ کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جو   مائیکو بیکٹریم ٹیوبر کلوسسز   نا می بیکٹریا سے   پیدا ہوتی ہے۔ جو عموما پھیپھڑوں کے لمف نوڈز کو متاثر کرتا ہے اور اس کو پلمونری   ٹی بی   کہتے ہیں۔ لیکن یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے مثلاََ لمفی غدود، آنتوں، گلے اور ہڈی، جوڑوغیرہ کو متاثر کرتے ہیں اور اسے   ایکسٹر ا پلمونری    ٹیوبر کلوسس کہتے ہیں۔ ٹی بی کا مرض چھپا ہوا یا پوشیدہ بھی...

حُقوقِ نسواں

Image
 تحریر: نادیہ حسین دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔   8مارچ اقوام متحدہ کی طرف سے  خواتین کا عالمی دن منانے کی  تسلیم شدہ تاریخ ہےچنانچہ رکن ملک کی حیثیت سے پاکستان میں بھی یہ دن بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے۔جگہ جگہ جلسے جلوس سمینار کانفرنسس منعقد کی جاتی ہیں۔ معاشرے کی ترقی میں عورتوں کے کردار اور حیثیت پر بحث کی جاتی ہے۔ان کے حقوق کے حصول کے لیے قرار دادیں منظور کی جاتی ہیں۔ مختلف حوالوں سے دن منانے اور حقوق مانگنے  کا تصور ہمارے یہاں مغرب سے آیا ہے۔ ظاہر ہے جس کے پاس جو کچھ نہیں ہو گا وہ مانگے گا۔کیونکہ مغرب کی اندھی تقلید ہم پر فرض ہے اس لیے ہم بھی بلا سوچے سمجھے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ مغربی معاشرے تو انسان کے بنائے ہوئے نظاموں کے زیر اثر چلتے ہیں۔یہ زندگی کے ہر پہلو اور گوشے کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ خوش قسمتی سے ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔اسلامی ضابطہ حیات معاشرے کے ہر طبقے کے حقوق و فرائضکا تعین کرتا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے خ...

میں کو ن ہو ں؟

Image
تحریر : عا طف مصطفٰے قر یشی میں کو ن ہو ں ؟ ہےناعجیب ساسو ال ۔ جب مجھے خود نہیں پتا کہ میں کون ہوں تو میں آپ سے کیوں پوچھ رہا ہوں کہ میں کون ہوں۔ مجھے تو یہ پو چھنا چاہیے کہ آپ کون ہیں؟ بہرحال میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ میں کون ہوں ۔ میں پہلےصر ف بیٹا تھا۔ پھرشو ہربنا اور اب بیٹے اور شو ہرکے درمیا ن بنا ہوا ایک لٹو ہوں۔ جی ہاں ایک لٹو ۔کبھی مجھے بیو ی ڈور لپیٹ کر زمین پر پھینکتی ہے۔  تو میں اس کی طرف گھو منے لگتا ہوں ۔ اور جب کبھی ماں اپنی ڈور میں لپیٹ کرگمھا تی ہے تو میں اس کی طرف گھومنے لگتا ہو ں۔ دونو ں طرف گھومنے پر اس لیے مجبورہوں کہ ماں کی دعا جنت کی ہواہے  اور بیو ی کے بغیر بھی گزارہ نہیں ۔ میری اس لٹو نمازندگی نے مجھے گھما کر رکھ دیاہے اور اب میں ایک گھن چکر ہوں۔ اس گھن چکر سے بچنے کےلیے جب اپنے والد بزرگوار سےرابطہ کیا کہ وہ تجربہ کار ہیں شاید میری مدد کرسکیں توا نہوں نے مجھے یہ کہ کرلا جواب کردیا ابھی تو میر ے ہی چکرپورے نہیں ہوئے۔  میں تمہا ری مدد کیسے کرسکتا ہوں۔ اس لیے گھوم بیٹے گھوم بلکہ دل لگا کرگھوم ۔ خیر گھومنے پر تو ہم راضی ہیں ۔ مگر اتن...

Welcome Year 2018

Image

زَر یا ضَمیر

Image
تحریر: سیدکمال ڈاکٹرعامرلیاقت حسین پاکستان میڈیا انڈسٹری کا ایک بہت بڑا نام جو کسی بھی چینل کی کامیابی کی ضمانت سمجھاجاتاہے۔  ڈاکٹرعامرلیاقت کا بول ٹی وی چھوڑنے کا واقعہ کسی حد تک غیر معمولی اور اگر یہ کہا جائے کے اَن پروفیشنل  بھی ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم غیرجانب دار ہوکر تمام حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات بلکل عیاں ہے کہ بول ٹی وی اپنی آمد سے پہلے ہی تنازعات کا شکاررہا اورمیڈیا انڈسٹری میں ایک متنازعہ ادارے کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا۔ مگر اس کے باوجود عامرلیاقت حسین صاحب آپ نے شعیب شیخ صاحب کے دامن پر لگے تمام داغوں کو نہ صرف دھونے میں بھر پور کردار ادا کیا بلکہ پورے پاکستان کے  چِیدہ  چِیدہ  اداروں اور شخصیات پرکالک ملنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ وہاں کیا اُس پر ندامت اور معافیاں کیوں۔ آپ کے حالیہ بیانات سے کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ کیا ہی یہ اچھا ہوتا کہ آپ اور ادارہ باہمی رضامندی سے الگ ہو جاتے۔ جس کی مثال عمران خان اور جمائمہ ہیں جنھوں نے اپنے راستوں اور مفادات کو علحیدہ کرنے کے باوجود...